ابنا: جشن انقلاب میں اگرایک طرف 80 سال کابوڑھا نظرآرہا تھا تو دوسری جانب شیرخواربچے اپنی ماؤں کی گودیوں میں چہکتےدکھائی دے رہے تھے۔
اپنے تواپنےغیروں کوبھی جشن انقلاب کی عظمت وشوکت کااعتراف کرناپڑا۔
کم وبیش تمام نیوزایجنسیوں نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کےجشن میں بڑےپیمانےپرعوام کی شرکت کااعتراف کیاہے۔
امریکی نیوزایجنسی ایسوشی ایٹڈ پریس نے بائیس بہمن کی مرکزی تقریب میں صدرمملکت ڈاکٹراحمدی نژاد کےخطاب کاحوالہ دیتےہوئےلکھاکہ انقلاب اسلامی اوراس کی تحریک کاتسلسل ضروری ہے ۔ا یسوشی ایٹڈ پریس نے اپنی رپورٹ میں بائیس بہمن کی تقریبات میں امریکہ مردہ آباد اوراسرائیل مردہ آباد کےنعروں کی جانب بھی اشارہ کیاکہ ایرانیوں نےہرسال کی طرح اس سال بھی امریکہ مردہ آباد اسرائیل مردہ آباد کےنعرےلگائے۔
امریکی نیوزایجنسی فاکس نیوز نےیوم اللہ بائیس بہمن میں ایرانی عوام کےعظیم الشان مظاہروں اور صدرمملکت ڈاکٹراحمدی نژاد کےخطاب کاجائزہ لیا۔
روئٹر نیوزایجنسی نے صدرمملکت کےاس بیان کوزیادہ کوریج دی کہ ایران، اسی صورت میں مذاکرات کی میزپربیٹھےگاجب دباؤ ڈالنےکاسلسلہ بندکردیاجائےگا۔
اس نیوزایجنسی نے صدرمملکت کےبیانات کےاس نکتےکی جانب کہ گروپ پانچ جمع ایک کےساتھ ایران کےمذاکرات کو اپنی سوچ مسلط کرنےکاہتھکنڈہ نہيں بنایاجاناچاہئے لکھاکہ اگرایساہواتو مذاکرات کی توقع نہيں کی جاسکتی ۔
امریکی اخبارات نےبھی جشن انقلاب کی تقریبات کوکوریج دی اورلکھاکہ ایرانی عوام نےاسلامی انقلاب کی چونتیسویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کرکےخراج تحسین پیش کیا۔
واشنگٹن پوسٹ نےلکھاکہ پورےایران میں عوام نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کےچونتیسویں جشن کی تقریبات میں حصہ لیا۔
اس رپورٹ کےمطابق اس سال جشن انقلاب کی تقریبات کوکوریج دینےکےلئےدوسوبیس سےزيادہ غیرملکی صحافی اورنامہ نگارایران آئےہوئےتھے جبکہ ملکی نامہ نگاروں اورصحافیوں کی بڑی تعداد بھی جشن انقلاب کی تقریبات کوکوریج دےرہی تھی۔
دنیاکےدوسرےملکوں ميں بھی اسلامی انقلاب کی کامیابی کےجشن کی تقریبات کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔
لندن میں اسلامی طلباء تنظیم کےمرکز، مرکزتوحید میں بھی اسلامی انقلاب کی کامیابی کی تقریبات کاانعقاد کیاگیا۔ان تقریبات میں ایرانی اورغیرایرانی افراد نےشرکت کی ۔
روس میں مقیم ایرانی طلباء نےبھی ایرانی انقلاب کی کامیابی کی تقریبات میں حصہ لیا اوربانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمت ا۔۔۔ کےاہداف ومقاصد سےوفاداری کاعہدکیا۔
اس موقع پرمختلف ملکوں کےماہرین اور تجزیہ نگاروں نے اسلامی انقلاب کےمختلف پہلؤں کاجائزہ لیا۔
روسی مفتیوں کی کونسل کےسربراہ تقی اللہ آشیروف نے عصرحاضرکی سیاسی زندگی میں اسلامی انقلاب کےبےمثال اثرات کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہاکہ ایران کےاسلامی انقلاب نے،صدیوں کےبعداسلام کےسیاسی پہلؤں کواجاگرکیا۔
جمہوریہ داغستان کےاسلامی ادارے نور کےسربراہ ناظم زینال اف نے اعلان کیاکہ ایران کےاسلامی انقلاب کےسامنےامریکہ عاجز ی محسوس کررہا ہے اورایران ، واشنگٹن کی تمام سازشوں کےباوجود اپنی پیشرفت جاری رکھےہوئےہے۔
جرمن محقق آرمیگڈ پین نےکہاکہ ایران میں اسلامی انقلاب کےبعدخواتین کامرتبہ بڑھا ہے اور تمام شعبوں میں بہتری آئی ہے۔
یونانی دانشور سارانڈوس نےکہاکہ امام خمینی کی قیادت میں کامیاب ہونےوالےایران کےاسلامی انقلاب کی کامیابی جوپوری قوم کی حمایت اورموجودگی سےحاصل ہوئی علاقےاوردنیاکےسیاسی معاملات میں بنیادی تبدیلی کاباعث بنی ۔
لاکھوں ایرانیوں نے یوم اللہ بائیس بہمن کواسلامی انقلاب کی کامیابی کی تقریبات میں پورےجوش وخروش سےحصہ لیا جس سےثابت ہوتاہے کہ وہ آج بھی اسلامی جمہوری نظام کےمقدس اہداف کےپوری طرح پابندہیں۔
.......
/169